• Breaking News

    Sunday, June 11, 2017

    Allama Abu Ul Imtiaz

    انالاللہ وانا الیہ راجعون: پاکستانی کی مایہ ناز شخصیت ،علامہ ابوالامتیاز دنیائے فانی سے رحلت کر گئے

    دبئی(نیوز ڈیسک) دنیائے علم او ادب کے عظیم مفکرو محقق جن کا اصل نام عبدالستار اور کنیت ابوالامیتاز تھی، انہیں دنیائے علم و ادب ”ابوالامتیاز مسلم “ کے نام سے جانتی اور پہنچانتی ہے۔ 8 اپریل 1922 کو پیدا ہونے والے عبدالستار 5 مئی 2017 ءکی شب اس دنیائے فانی سے رحلت فرما گئے۔ انتقال کے وقت ان کی عمر 95 بر س تھی۔

    تفصیلات کے مطابق علامہ ابو الامتیاز مسلم مرحوم دبئی متحدہ عرب امارات میں ہی موجود تھے اور ان کا انتقال بھی یہیں ہوا جبکہ تدفین کے لیے ان کے جسد خاکی کو کراچی پہنچایا گیا، جہاں انہیں ان کے عزیز و اقارب اور بے شمار چاہنے والوں کی موجودگی میں ان کے آبائی قبرستان میں سپردخاک کر دیا گیا۔عبدالستار مسلم نے لکھنے کا سلسلہ تو اوائل عمری میں ہی شروع کر دیا تھا۔ ان کے مضامین اس وقت کے اخبارات و رسائل ہر موضوع پر شائع ہوتے رہے۔ جبکہ 1960 ءمیں انہوں نے ماہ نامہ ”نیاراہی “ جاری کیا جس کے ایڈیٹر وہخود تھے۔ ع س مسلم بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے قریبی ساتھی بھی رہے ہیں 1943 ءسے 1947 تک ع س مسلم کو نہ صرف قائداعظم کو بار بار قریب سے دیکھنے کو موقع ملا بلکہ ان کے قدموں میں بیٹھنے ، انہیں سننے اور ان کی محفل میں نظم پڑھنے کا شرف بھی حاصل ہوا ۔ قیام پاکستان کے وقت عبدالستار مسلم جواں سال تھے لہٰذا انہوں نے تحریک انصاف میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور عملاً کام بھی کیا۔ عبدالستار مسلم ایک تعلیم یافہ شخصیت تھے جنہوں نے 1960 ءمیں کراچی یونیورسٹی سے معاشیات میں بی اے کی سند حاصل کی۔ 1957 ءمیں ان کی پہلی کتاب افسانوں کا مجموعہ ”ایک ٹہنی کے پھول “ اشاعت پذیر ہوئی۔ غزلوں اور نظموں کے کئی مجموعے شائع ہو چکے ہیں تاہم حمدو نعت میں انہیں خاص مقام حاصل رہا۔ واگاں میں ول موڑ “ ان کی پنجابی شاعری کی واحد کتاب ہے جسے پنجابی ادب کے پارکھوں نے کلاسیکی روایت کا اصیاءقرار دیا ہے۔ یہ کتاب 2002 ءسے پنجاب یونیورسٹی کے پنجابی ایم اے کے نصاب مطالعہ میں شامل ہے۔ ع س مسلم کے نژی مضامین ، مباحث ، سفرنامے، تنقیدی و تحقیقی مضامین اور فکرو نظر سے بھرپور اخباری مقالات ان کے تخلیقی و خوا، زندگی کی ہمہ جہتی، اور مشاہدے کی گہرائی و گیرائی کے آئینہ دار ہیں۔اردو پنجابی اور انگریزی نظم و نژ میں وہ اب تک پچاس سے زائد کتب کے مصنف ہیں۔ جن میں بچوں ، ماﺅں، بہنوں کیلئے نظم و نثر میں دینی ، سائنسی، تاریخی معلومات، قومی و ملی نغموں ، لوریوں، اور جھولوں وغیرہ پر مشتمل دس کتب بھی شامل ہیں۔ ان کی خود نوشت سوانح عمری”لمحہ بہ لمحہ زندگی “ اپنے عہد کی مستند ، دلچسپ اور مقبول داستان ہے۔ع س مسلم پر اب تک چار لوگ PHD کر چکے ہیں۔ 2012 ءسے جامعہ الازہر ، قاہرہ میں یونیورسٹی سطح پر ”ع س مسلم “ بطور مضمون پڑھا یاجاتا ہے۔ ”زبور نعت “ ”واگاں میں ول موڑ “ اور اسماءالنبیﷺ: پیراہن شعر میں لکھنے پر تین بار صدارتی ایوارڈ بھی مل چکا ہے جبکہ دیگر تصانیف پر متعدد بار اول انعامات اور ایوارڈ ڈنر بھی مل چکےہیں۔



    from Siasi Dangal http://ift.tt/2rjpMRy
    via IFTTT

    No comments:

    Post a Comment