اسلام آباد( ویب ڈیسک) سندھ میں اربوں روپے کی ادویات مناسب درجہ حرارت نہ ہونے کے باعث مریضوں کے لیے زہر ثابت ہو رہی ہیں ، فیڈرل ڈر گ انسپکٹر سندھ نے فیڈرل ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی ٟ ڈر یپ ٞ کے چیئرمین کو لکھے گئے مراسلہ میں انکشاف کیا ہے کہ صوبہ سندھ کے کسی بھی میڈیکل سٹور میں ادویات کو محفوظ رکھنے کے لیے نظام ہی موجود نہیں ،جان بچانے والی ادویات سمیت تمام انجیکشن بھی نا مناسب درجہ حرارت میں رکھے گئے ہیں جو کہ مریضوں کی زند گیوں کے ساتھ کھیلا جا رہا ہے ۔ادویات کے لیے مناسب درجہ حرارت 25 ہوتا ہے سندھ کے تمام میڈیکل سٹور ز میں رپورٹ کے دوران 40 سے 56 درجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا ہے ،فیڈرل ڈرگ انسپکٹر عبید کی جانب سے 4 جولائی کو لکھے گئے مراسلے میں ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی پاکستان ٟ ڈریپ ٞ سے استدعا کی گئی ہے کہ تمام ادویہ ساز کمپنیوں کو کہا جائے کہ وہ اپنی ادویات واپس ٟ ری کال منگوائیں ،
مراسلے میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ سندھ میں تمام میڈیکل سٹور سے فروخت ہونے والی ادویات اس وقت مریضوں کے لیے زہر ثابت ہو رہی ہیں ،ماہرین کے مطابق اگر نامناسب درجہ حرارت میں رکھی گئی ادویات کو استعمال کیا جائے تو وہ فائدہ کی جگہ مریض کو نقصان پہنچاتی ہیں ۔ڈرگ انسپکٹر کی جانب سے لکھے گئے مراسلے میں بتایا گیا ہے کہ سندھ کے اکثریتی میڈیکل سٹورز میں ائرکنڈیشنر ہی موجود نہیں ۔کمپنیوں کو پابند کیا جائے کہ وہ نامناسب درجہ حرارت رکھنے والے میڈیکل سٹور کو ادویات سپلائی نہ کریں ۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ انجیکشن کے لیے فریج کی ضرورت ہوتی ہے بیشتر میڈیکل سٹورز میں ریفریجٹر ہی موجود نہیں ۔ایک اندازے کے مطابق سندھ کے میڈیکل سٹورز میں دو سے ڈھائی ارب روپے کی ادویات ہر وقت موجود ہوتی ہیں ۔جو کہ مریضوں کی جیبوں سے پیسہ نکال لیا جاتا ہے لیکن ان کو شفائ کی جگہ موت بانٹی جارہی ہے۔
from Voice Of Pakistan http://ift.tt/2uhO4Bq
via IFTTT

No comments:
Post a Comment