• Breaking News

    Saturday, July 29, 2017

    میرے ساتھ جو سلوک ہوا اس کی توقع نہیں تھی: نواز شریف

    سابق وزیراعظم نوازشریف نے کہا ہے کہ میرے ساتھ جو سلوک ہوا اس کا مستحق نہیں تھا، ملک میں آئین اور قانون کی پاسداری ہونی چاہیے، کسی کو جیلوں میں ڈالنے، پھانسیاں دینے اور جلا وطن کرنے سے ملک تباہ ہوجائے گا۔

    مسلم لیگ (ن) کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نوازشریف نے کہا کہ قوم جانتی ہے ہماری 70 سال کی تاریخ میں وزرائے اعظم کے ساتھ کیا ہوتا رہا ہے، مسلم لیگ (ن) کی حکومتیں کئی مرتبہ مختلف طریقوں سے گرائی گئی ہیں لیکن عوام نے ان طریقوں کو مسترد کر دیا۔

    نوازشریف نے کہا کہ جب قومیں صحیح راستے کا تعین کریں تو ان کی تقدیر بدل جاتی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’فخر ہے کہ میری نااہلی کرپشن کی وجہ سے نہیں ہوئی، قوم کو پتا چل رہا ہے کہ ڈس کوالیفیکیشن کیوں ہوئی، آپ کو فخر ہوناچاہیے آپ کے پارٹی سربراہ کا دامن صاف ہے۔‘

    انہوں نے مزید کہا کہ کہتےہیں تنخواہ کیوں نہیں لی؟ اثاثہ ہے، اس لیے ڈکلیئر کرنا چاہیے تھا، جب تنخواہ وصول ہی نہیں کی تو ڈکلیئر کیوں کرنا تھا؟

    سابق وزیراعظم نے کہا کہ میں اپنے ہر اثاثے پر ٹیکس دیتا ہوں، ہر اثاثے اور ذرائع آمدن کو ڈکلیئر کیا ہوا ہے، تین نسلوں کے احتساب سے ملا کیا؟ ایک اقامہ جوذرائع آمدن ہی نہیں اسے ڈکلیئر کیسے کرتا؟

    سابق وزیراعظم نے کہا کہ یہاں جیبیں بھری ہوئی ہیں اور یہ ڈکلیئر نہیں کرتے، یہ کیا ہورہا ہے؟ عوام کو فیصلہ کرنا ہے، ملک کو واپس کس سمت میں لےجایا جا رہا ہے؟

    انہوں نے کہاکہ میرا ضمیرصاف ہے، اگر ضمیرملامت کرتا، کوئی خوردبرد یا خیانت کی ہوتی تو خود استعفیٰ دے دیتا، جب کرپشن ہی نہیں کی تو استعفیٰ دینے کو دل ہی نہیں مانتا، کہا گیا ڈکلیئر کرنا چاہیے تھا جب جیب میں ہی کچھ نہیں آیا تو کیا ڈکلیئر کرتا؟

    ’کچھ وصول کرو تو مصیبت، نہ کرو تو مصیبت‘

    سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ کچھ وصول کرو تو مصیبت، نہ کرو تو مصیبت۔

    انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے کچھ نو وارد سیاستدانوں نے الزامات اور تہمتوں کی حد کردی، یہ نو وارد سیاستدان اب خود الزامات میں گھرے ہوئے ہیں، یہ لوگ وہ ہیں جن کے پاس ذرائع آمدن بھی نہیں تو پھر پیسہ کہاں سے آیا۔

    نوازشریف نے کہا کہ ایک رات میں وزیراعظم اور اگلے دن ہائی جیکر، میرے خلاف ہائی جیکنگ کا کیس بنا کر مجھے ہائی جیکر بنادیا گیا، لوگوں نے کہا آپ کو سزائے موت سنائی جائے گی، اگر مجھے سزائے موت سنادی جاتی تو میں بھی سوچتا کہ سزا دے دی گئی۔

    ان کا کہنا تھا کہ خلوص دل اور عزم سے اس ملک کی خدمت کی ہے، اگر پیسا ہی مطمع نظر ہوتا تو مجھے 5 ارب ڈالر کی پیشکش ہوئی تھی، میں نے اس ملک کے ایٹمی پروگرام کے بٹن پر ہاتھ رکھا اور پاکستانی قوم کے لیےعزت و فخر کا موقع آیا۔

    انہوں نے کہا کہ 20، 25 سال پہلے میں نظریاتی نہیں تھا لیکن حالات نے نظریاتی بنادیا، نظریات پر سمجھوتا نہیں کرسکتا اگر اس پر سزائیں بھی بھگتنا پڑیں تو کوئی پچھتاوا نہیں، ملک کے لیے کوئی بھی قربانی دینے کو تیار ہوں۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان میں آئین اورقانون کی پاسداری ہونی چاہیے، کسی کو جیلوں میں ڈالنے، پھانسیاں دینے اورجلا وطن کرنے سے پاکستان تباہ ہوجائے گا۔

    سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مجھے اپنی ذات کی کوئی پرواہ نہیں، پاکستان کے عوام کی پرواہ ہے، پچھلے ادوار میں جو جدوجہد کی اسے گنوانا نہیں چاہتے، خدا کی قسم اقتدار کی لالچ کی بات نہیں کر رہا، جو جدوجہد کی چاہتا ہوں کہ اس کا فائدہ 20 کروڑ عوام کو ملے۔

    ’اب بھی اقتدار کی لالچ نہیں‘

    انہوں نے کہا کہ 2013 میں بڑی مشکل سے وزیراعطم بننے کا فیصلہ کیا، اب بھی اقتدار کی لالچ نہیں، میں ایک سپاہی ہوں جو پاکستان کے لیے لڑتا ہےاور مورچے پر کھڑا ہوتا ہے، میں آخری وقت تک پاکستان کے لیے مورچے پر کھڑا رہوں گا۔

    نوازشریف نے مزید کہا کہ 2013 سے ملک میں دہشتگردی کا کیا حال تھا، ہم نے دہشتگردی کی کمر توڑ دی ہے، یہ جو اکا دکا واقعات ہورہے ہیں یہ بھی ختم ہوجائیں گے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ پہلا دھرنا، دوسرا دھرنا اور پھر پاناما، اس کے باوجود اندھیرے چھٹ رہے ہیں، جائیں جاکر دیکھیں بلوچستان کیسے بدل رہا ہے، آج کراچی آباد ہو رہا ہے اور وہاں امن آرہا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ملک سے لوڈشیڈنگ ختم ہورہی ہے اور روشنیاں واپس آرہی ہیں، اگر دھرنوں کی سیاست اور یہ منفی سیاست نہ ہوتی تو اب تک دہشت گردی کا مکمل قلع قمع ہوچکا ہوتا۔

    سابق وزیراعظم کہنا تھا کہ آج ملک میں ترقی کا دور دوبارہ شروع ہوچکا ہے، ترقی کی شرح 5.3 فیصد ہے، جب ہماری حکومت آئی تو اسٹاک مارکیٹ 19 ہزار پر تھی اور 4 سالوں میں 51 ہزار تک گئی۔

    انہوں نے کہا کہ آج بلوچستان بن رہا ہے اور نیا پاکستان تعمیر ہورہا ہے، بلوچستان میں سڑکوں کا جال بچھ رہا ہے، ہم نے سیاسی طور پر بھی بلوچستان کو دوبارہ پاکستان کے ساتھ ملایا ہے۔

    نوازشریف کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں بھی مولانا فضل الرحمان نے مشورہ کیا کہ ہم صوبے میں حکومت بنا سکتے ہیں لیکن ہم نے کہا کہ جسے ہم سے 2 ووٹ بھی زیادہ ملے اس کو حکومت بنانے کا حق دینا چاہیے، ہم نے انہیں حکومت بنانے کا موقع دیا اور اب ان کی کارکردگی آپ کے سامنے ہے، جس قسم کا وہاں نیا پاکستان بن رہا ہے سب اسے جانتے ہیں۔

    کے پی کے میں حکومت کرنے والے ایک میٹرو نہیں بنا سکے: نواز شریف

    انہوں نے کہا کہ کے پی کے میں ایک چھوٹی سے میٹرو نہیں بنا سکے، شہبازشریف نے کئی دفعہ میٹرو بنا دی، ہم نے سندھ کی حکومت کو بھی خوشدلی سے قبول کیا، آصف زرداری کو میں نے رخصت کیا جس کی پاکستان میں کوئی روایت نہیں تھی لیکن ہم نے انہیں عزت سے رخصت کیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ کنٹینر پر کھڑے ہوکر کس قسم کی گفتگو ہوئی پوری قوم نے دیکھا، ایک وزیراعلیٰ پورا قافلے لے کر اسلام آباد پر قبضے کے لیے آیا، چینی صدر کئی ماہ تک انتظار کرتے رہے کہ دھرنا ختم ہو اور پاکستان کا دورہ کروں۔

    انہوں نے کہا کہ سی پیک میں جو 56 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ہے اس کی ملکی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی، چائنا کے صدر نے کہا کہ یہ چین کی طرف سے آپ کے لیے تحفہ ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ہمیں غلطیوں کی اصلاح کرنی چاہیے اور بیٹھ کر غلطیوں کو سدھارنا چاہیے، اپنے منہ میاں مٹھو بننا نہیں چاہتا، ملک کی جو خدمت کی ہے اس کا اعتراف ہونا چاہیے۔ اس کا معاوضہ یا انعام نہیں چاہتا لیکن جو سلوک ہمارے ساتھ ہوتا رہا ہے سمجھتا ہوں اس سلوک کے مستحق نہیں ہیں۔

    ’جو کچھ کل ہوا اسے تاریخ جانچے گی‘

    نوازشریف کا کہنا تھا کہ جو کچھ کل ہوا اسے تاریخ جانچے گی کہ یہ فیصلہ پاکستان کے لیے فائدہ مند تھا یا نقصان دہ، اس کو دہرانا نہیں چاہتا لیکن جس طرح نااہل کیا گیا اس کی کوئی وجہ ہی نہیں بنتی تھی۔

    سابق وزیراعظم نے کہا کہ خواہش ہے کہ ملک مصیتوں سے آزاد ہو، ملک کو درست سمت میں گامزن کرنے پر میرا ساتھ دیں۔

    انہوں نے کہا کہ گلگت میں بھی اتنی ترقی کبھی نہیں ہوئی یہ بے مثال ہے، ملک میں لوگ آتے اور جاتے رہیں گے، مجھے وزیراعظم نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا، آپ کے ساتھ ہوں،آپ کے حلقوں میں آؤں گا اور ملک کا دورہ کروں گا، ہم پاکستان کی ترقی میں اپنی کاوش اور جدوجہد کرتے رہیں گے، پاکستان کے کروڑوں عوام اور نوجوانوں کا ہم پر قرض ہے، ہمیں عوام کی خدمت کا جذبہ ہے، نوجوانوں کو باعزت روزگار ملے، کسی بھی قیمت پر آپ کو نہیں چھوڑوں گا۔

    اجلاس میں سابق وزیراعظم نے عبوری اور مستقل وزیراعظم کے ناموں کا بھی اعلان کیا۔

    نوازشریف نے کہا کہ شہبازشریف آئندہ ملک کے وزیراعظم ہوں گے مگر انہیں آنے میں کچھ دن لیں گے کیونکہ انہیں الیکشن لڑنا ہوگا اس لیے عبوری مدت کے لیے شاہد خاقان عباسی کو عبوری وزیراعظم نامزد کرتا ہوں۔

    قانون تبدیل کریں اور کم بیک

    خطاب کے دوران ایک موقع پر تہیمہ دولتانہ نے نواز شریف کو لقمہ دیا اور کہا کہ میاں صاحب قانون تبدیل کریں اور کم بیک جس پر اراکین کی جانب سے تالیاں بجائی گئیں۔

    اس پر نوازشریف نے کہا کہ آپ کے جذبات کی قدر کرتا ہوں۔

    اسلام آباد چھوڑنے کا عندیہ دیا تو بعض پارٹی اراکین آبدیدہ

    ذرائع کے مطابق پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں نوازشریف رنجیدہ ہوگئے اور جب انہوں نے اسلام آباد چھوڑنے کا عندیہ دیا تو بعض پارٹی اراکین آبدیدہ ہوگئے اور انہوں نے نوازشریف کو شہبازشریف کے وزیراعظم بننے تک اسلام آباد میں رکنے کا کہا۔

    پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں نوازشریف کے علاوہ کسی پارٹی رہنما نے تقریری نہیں کی۔

    ذرائع کے مطابق پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں نئے وزیراعلیٰ پنجاب اور نئی وفاقی کابینہ پر کوئی بات نہیں ہوئی۔

    اجلاس میں زاہد حامد اور بیرسٹر ظفر اللہ نے نوازشریف کو بریفنگ دی۔

    زاہد حامد نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے میں بڑے نقائص ہیں، پہلی بار وکیل ہونے پر شرمندگی ہوئی ہے لیکن ہم نے بہت مضبوط نظر ثانی کی اپیل بنائی ہے
    0-36-672x350



    from Voice Of Pakistan http://ift.tt/2tMAPEP
    via IFTTT

    No comments:

    Post a Comment