ماسکو (ویب ڈیسک) یہ 1962 کی بات ہے جب روسی آبدوز کیوبا کے نزدیک عالمی پانیوں میں موجود تھی – آبدوز نے سمندری حدود کی خلاف ورزی نہیں کی تھی – امریکی بحری بیڑے کو آبدوز کی موجودگی کا پتہ چل گیا – امریکیوں نے آبدوز کو محاصرے میں لے لیا اور بم برسانے لگے – انہیں کہا گیا کہ وہ آبدوز سے باہر آکر ہتھیار ڈال دیں – آبدوز کا ماسکو سے رابطہ ٹوٹ چکا تھا – وہ سمجھے کہ جنگ شروع ہو چکی ہے – آبدوز کے اعلی آفیسران نے ہنگامی اجلاس طلب کر لیا اور آبدوز کے کپتان نے امریکی بحری بیڑے پر ایٹمی حملے کا فیصلہ کر لیا – اس مقصد کیلئے ضروری تھا کہ کپتان، سیکنڈ کپتان اور پولیٹکل آفیسر کی منظوری ضروری تھی – کپتان اور پولیٹکل آفیسر نے منظوری دے دی مگر سیکنڈ کپتان نے ایٹمی حملے سے انکار کر دیا – انہوں نے ہتھیار ڈال دیا مگر ایٹمی حملہ نہیں کیا – دنیا انسانی تاریخ کی سب سے بڑی تباہی سے بچ گئی – اور تیسری عالمی جنگ ٹل گئی
from dr-shahidmasood http://ift.tt/2tYpWCJ
via IFTTT

No comments:
Post a Comment