• Breaking News

    Thursday, September 28, 2017

    The dilemmas of our society – By Sadia

    آج کچھ زیادہ ہی دیر ہو گئی تھی۔

    آمنہ ابھی تک گھر نہیں پہنچی تھی۔ زین بہت دیر سے بچوں کو سلانے کی کوشش کر رہا تھا لیکن ان کی ایک ہی ضد تھی ماما آئیں گی تو سونا ہے۔ زین کچن کا کام دیکھنے چلا گیا۔ بچوں کے رونے کی آواز پہ پھر بھاگ کے آیا دونوں لڑائی کر رہے تھے۔ اتنا تھک چکا تھا پھر بچوں کو بہلانے کی کوشش کرنے لگا۔ بہت مشکل سے وہ سو ہی گئے۔ تبھی باہر گھنٹی بجی۔ زین نے دروازہ کھولا۔ آمنہ نے دروازہ دیر سے کھولنے پر غصہ بھی کیا۔ ڈرتے ڈرتے بولا ”بچے تمہارا انتظار کر رہے تھے۔ “ آمنہ نے اس کا جواب دینا بھی ضروری نہ سمجھا۔ زین نے جلدی سے کھانا لگایا جو ہمیشہ کی طرح اسے پسند نہ آیا۔ غصے میں بہت کچھ سنا کے اپنے کمرے میں چلی گئی۔ زین نے برتن اٹھائے ، کچن کا باقی کام سمیٹ کر کمرے میں آیا تو آمنہ موبائل پر کسی سے بات کرتے ہوئے ہنس رہی تھی۔ زین بیڈ کی دوسری طرف خاموشی سے لیٹ گیا۔ اب تو اسموکنگ بھی کرنے لگی تھی۔ جب آمنہ نے بات کر لی تو آہستہ سے بولا : ” آمنہ سگریٹ نہ پیا کرو نا۔“ اس بات پر اسے اور بھی غصہ آ گیا اور کمرے سے باہر نکل گئی۔
    کہانی کچھ عجیب لگ رہی ہے نا؟؟؟ چلیں اب ان دونوں کرداروں کی روٹین آپس میں بدل کر دیکھیں۔ دیر سے گھر آنے والا زین اور ڈری سہمی آمنہ۔۔۔۔ اب کچھ بھی عجیب نہیں لگے گا ۔ کیونکہ مرد تو ایسے ہی ہوتے ہیں نا ؟
    یہ کہانی ہر گھر کی کہانی نہیں کیونکہ نہ سب مرد ایک جیسے برے ہوتے ہیں نہ ہر عورت مظلوم۔ یہ کہانی ان گھروں کی ہے جہاں اگر لڑکا بگڑ گیا ، کسی بری عادت میں مبتلا ہو گیا یا کسی قسم کا نفسیاتی مسئلہ ہو گیا زیادہ تر لوگ یہ سوچتے ہیں ”اس کی شادی کر دیں خود ہی ٹھیک ہو جائے گا۔ “ پھر کسی غریب لڑکی یا کسی بہت دور کے علاقے میں چوری رشتہ کر دیا جاتا ہے کہ کسی جاننے والے کو پتہ چلا تو وہ لڑکے کی اصلیت بتا دے گا۔ کیونکہ اکثر لڑکی والے لڑکے کو ”شریف منڈا“ بنا ہوا دیکھ کر دھوکہ کھا جاتے ہیں۔ پھر خاموشی سے شادی ہو جاتی ہے اور جب اصلیت کھلتی ہے تب تک بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔ زیادہ تر گھروں کےحالات کی وجہ سے لڑکیاں رشتہ نبھانے پر مجبور ہو جاتی ہیں کیونکہ ماں باپ اتنے امیر نہیں ہوتے کہ بیٹی کو طلاق دلوا کر گھر بٹھا لیں۔ پھر دس میں سے ایک یا دو سدھر بھی جاتے ہیں۔ باقی پہلی زندگی میں مست۔ اور بچوں کی بیڑیاں عورت کو مزید مجبور بنا دیتی ہیں۔ شوہر نفسیاتی مریض ہو یا آواہ نکما ، کبھی مار پیٹ کر لیتا ہے تو کبھی بیوی کے زیور بیچ کر کھا جاتا ہے۔ لڑکے کے گھر والے رشتہ کروانے کے بعد ہر معاملےسے لاتعلق ہو جاتے ہیں۔ میں نے ایسی بہت سی کہانیاں حقیقت میں دیکھی ہیں بس اسی لیے لکھنے کی جسارت کر رہی ہوں اور ان گھر والوں سے درخواست ہے خدارا کسی کی بیٹی کی زندگی جہنم نہ بنائیں۔ بیٹے کا علاج کروائیں اگر اس قابل ہو جائے تو شادی کریں۔ یہ سوچ کر کہ ”شادی کے بعد خود ہی ٹھیک ہو جائے گا“ کسی کو مشکل میں نہ ڈالیں۔ جو گھر والوں سے ٹھیک نہ ہوا وہ کسی غیر لڑکی سے کہاں ٹھیک ہو گا؟“
    لڑکیاں ایسی حرکت کھلے عام کریں تو ”غیرت “ کے نام پر قتل کر دی جاتی ہیں۔ یہ ہی غیرت مرد کی ایسی حرکتوں کو دیکھ کر کہاں گہری نیند سو رہی ہوتی ہے؟؟؟؟؟
    تحریر : سعدیہ

    The post The dilemmas of our society – By Sadia appeared first on Trends Of Pakistan.



    from Trends Of Pakistan http://ift.tt/2wm2opR
    via IFTTT

    No comments:

    Post a Comment