(مانیٹرنگ ڈیسک) کرکٹ کا شمار دنیا کے مقبول ترین کھیلوں میں ہوتا ہے۔ اس کھیل میں ایک مرتبہ جو مقبول ہو گیا تو عزت، دولت، شہرت اور قسمت کی دیوی اس کے گھر کی باندی بن جاتی ہیں۔ موجودہ دور کے سپر سٹاز کرکٹرز کا شمار دنیا کے امیر ترین کھلاڑیوں میں ہوتا ہے۔ اگر زرا ماضی میں جھانکیں تو ہمیں کرکٹ سے وابستہ رہنے والے ایسے کھلاڑی ضرور یاد ہونگے جنہوں نے اپنے ممالک کیلئے کارہائے نمایاں سرانجام دیے، لیکن آج وہ کس حال میں ہیں کوئی نہیں جانتا۔ آئیے ان میں سے چند کے بارے میں آپ کو بتاتے ہیں۔ کرس ہیرس کرس ہیرس کا شمار نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کے آل راؤنڈرز میں ہوتا تھا۔ اس کھلاڑٰی کو بیٹنگ، فلیڈنگ اور باؤلنگ جیسے تینوں شعبوں میں کمال حاصل تھا۔ کرکٹ کو خیرباد کہنے کے بعد کرس ہیرس آج کل ایک آسٹریلوی کمپنی میں میڈیکل نمائندے کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں۔ یہ کمپنی مصنوعی اعضاء تیار کرتی ہے اور کرس ہیرس کا کام ان کی فروخت ہے۔ کرس ہیرس نے نیوزی لینڈ کی جانب سے 23 ٹیسٹ میچوں میں 777 رنز بنا رکھے ہیں۔ ون ڈے میچوں میں ان کی کارکردگی بہتر ہے۔ انہوں نے 250 ون ڈے میچوں
میں 4379 رنز بنائے اور 203 وکٹیں حاصل کر رکھی ہیں۔ جوگندر شرما جوگندر شرما کا شمار انڈیا کے بہترین باؤلرز میں ہوتا تھا۔ 2007ء میں ہونے والے ورلڈ ٹی ٹونٹی کے فائنل میں انہوں نے اپنی ٹیم کی جیت میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ تاہم بعض وجوہات کی وجہ سے ان کا کرکٹ کیریئر زیادہ عرصہ نہ چل سکا۔ موصوف اب بھارتی ریاست ہریانہ کی پولیس میں ڈی ایس پی کے عہدے پر براجمان ہیں۔ نیتھن ایسٹل نیتھن ایسٹل کا شمار بھی نیوزی لیںڈ کے مایہ ناز کھلاڑیوں میں ہوتا ہے۔ انہوں نے بہت مرتبہ اپنی ٹیم کو فتح سے ہمکنار کروایا۔ اس کا اندازہ ان کے صرف اس ریکارڈ سے لگایا جا سکتا ہے کہ انہوں نے دنیا کی سب سے تیز ترین سنچری بنانے کا اعزاز بھی اپنے نام کر رکھا ہے۔ نیتھن ایسٹل جب اپنی کارکردگی برقرار نہ رکھ پائے تو انہوں نے کرکٹ کو خیرباد کہتے ہوئے کار ریسنگ شروع کر دی۔ نیوزی لینڈ کا یہ سابق کرکٹر آج کار ریسنگ کے کھیل سے وابستہ ہے۔ ایںڈریو فلنٹوف انگلش کرکٹ ٹیم نے جو مایہ ناز اور مشہور کرکٹ پیدا کیے ان میں اینڈریو فلنٹوف کا نام بھی شامل ہے۔ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے بعد ایںڈریو فلنٹوف نے باکسنگ میں قسمت آزمائی کی اور اپنے پہلے ہی میچ میں امریکا کے مشہور باکسر رچرڈ ڈاؤسن کو شکست دیدی تھی۔ دبیش موہانتی نوے کی دہائی کی بات کی جائے تو اس دور میں انڈین کرکٹ ٹیم کے باؤلر دبیش موہانتی نے بہت نام کمایا۔ صحارا کپ میں موہانتی نے پاکستان کیخلاف شاندار باؤلنگ کر کے اپنی ٹیم کو فتح سے ہمکنار کروایا تھا۔ موہانتی کا کیریئر اتنا زیادہ دیر تک نہیں چلا۔ انہوں نے 17 ون ڈے میچوں میں انہوں نے 29 وکٹیں حاصل کر رکھی ہیں۔ موہانتی ان دنوں بھارتی شہر اڑیسا کی ایک مقامی ایلومینم کمپنی میں ملازم ہیں۔
میں 4379 رنز بنائے اور 203 وکٹیں حاصل کر رکھی ہیں۔ جوگندر شرما جوگندر شرما کا شمار انڈیا کے بہترین باؤلرز میں ہوتا تھا۔ 2007ء میں ہونے والے ورلڈ ٹی ٹونٹی کے فائنل میں انہوں نے اپنی ٹیم کی جیت میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ تاہم بعض وجوہات کی وجہ سے ان کا کرکٹ کیریئر زیادہ عرصہ نہ چل سکا۔ موصوف اب بھارتی ریاست ہریانہ کی پولیس میں ڈی ایس پی کے عہدے پر براجمان ہیں۔ نیتھن ایسٹل نیتھن ایسٹل کا شمار بھی نیوزی لیںڈ کے مایہ ناز کھلاڑیوں میں ہوتا ہے۔ انہوں نے بہت مرتبہ اپنی ٹیم کو فتح سے ہمکنار کروایا۔ اس کا اندازہ ان کے صرف اس ریکارڈ سے لگایا جا سکتا ہے کہ انہوں نے دنیا کی سب سے تیز ترین سنچری بنانے کا اعزاز بھی اپنے نام کر رکھا ہے۔ نیتھن ایسٹل جب اپنی کارکردگی برقرار نہ رکھ پائے تو انہوں نے کرکٹ کو خیرباد کہتے ہوئے کار ریسنگ شروع کر دی۔ نیوزی لینڈ کا یہ سابق کرکٹر آج کار ریسنگ کے کھیل سے وابستہ ہے۔ ایںڈریو فلنٹوف انگلش کرکٹ ٹیم نے جو مایہ ناز اور مشہور کرکٹ پیدا کیے ان میں اینڈریو فلنٹوف کا نام بھی شامل ہے۔ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے بعد ایںڈریو فلنٹوف نے باکسنگ میں قسمت آزمائی کی اور اپنے پہلے ہی میچ میں امریکا کے مشہور باکسر رچرڈ ڈاؤسن کو شکست دیدی تھی۔ دبیش موہانتی نوے کی دہائی کی بات کی جائے تو اس دور میں انڈین کرکٹ ٹیم کے باؤلر دبیش موہانتی نے بہت نام کمایا۔ صحارا کپ میں موہانتی نے پاکستان کیخلاف شاندار باؤلنگ کر کے اپنی ٹیم کو فتح سے ہمکنار کروایا تھا۔ موہانتی کا کیریئر اتنا زیادہ دیر تک نہیں چلا۔ انہوں نے 17 ون ڈے میچوں میں انہوں نے 29 وکٹیں حاصل کر رکھی ہیں۔ موہانتی ان دنوں بھارتی شہر اڑیسا کی ایک مقامی ایلومینم کمپنی میں ملازم ہیں۔
from NewsBook http://ift.tt/2s1Xb3s
via IFTTT

No comments:
Post a Comment